Blogs » Category
Amnesty Pakistan

بہآئی عبادت گاہیں حمد و ثناء الہی کے لئے وقف ہیں۔ عبادت گاہیں مشرق الاذکار کی مرکزی عمارت ہوتی ہے، مشرق الاذکار عمارتوں کا ایک مجموعہ ہوگا۔ مستقبل میں جیسے جیسے اس میں مضمر ترقیات ظاہر ہوتی جائیں گی تو اس میں عبادت گاہ کے علاوہ متعدد ذیلی عمارات بھی بنیں گی جو معاشرتی، انسانی بہبود، تعلیمی اور سائنسی مقاصد کے لئے استعمال ہوں گی۔حضرت عبدالبہآء فرماتے ہیں کے "مشرق الاذکار دُنیا کی اہم ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔" اور حضرت شوقی آفندی بتاتے ہیں کہ یہ "بہآئی عبادت اور خدمت" کے ملاپ کی مجسم صورت کا نمونہ ہے۔ اس ادارہ کی مستقبل کی ترقیات کو تصوّر میں لاتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔ عبادت گاہ اور دوسری ذیلی عمارتیں "تکلیف میں مبتلا شخص کو راحت، مفلس کو امداد، مسافر کی پناہ گاہ، غمز دہ کو تسلی اور جاہل کو علم فراہم کریں گی۔"
house of worship text

Amnesty Pakistan

،
امرِ بہآئی ایک عالمگیر دین ہےاِس دین کے ماننے والےحضرت بہآءاللہ کو آج کے دور کے لئے مظہرِظہورِ الہی تسلیم کرتے ہیں۔اِس وقت دُنیا کے ۱۹۱ ممالک میں پچاس لاکھ سے زائد بہآئی موجود ہیں۔ دُنیا کے سب بہآئیوں کی طرح پاکستان کی سرزمین پر ہر صوبے کے بہآئی پُر مسرت اور حوصلہ افزہ "ماحول میں خدا کے تخلیقی کلام کے منّظم مطالعہ میں مصروف ہیں۔ جیسے جیسے وہ عمل، تدبراور مشورت کےعمل کے ذریعےاس طرح حاصل کی جانے والی بصیرتوں کوعملی جامہ پہنانےکی جدوجہدکرتے ہیں ویسے ویسے وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ خدمت سر انجام دینے کے سلسلے میں ان کی استعداد نئی سطحوں تک بلند ہوتی جا رہی ہے۔ ہر دل کی اس گہری آرزو کا، کہ وہ اپنے خالق کے ساتھ راز و نیاز کرے ،جواب دیتے ہوئے وہ متنوع ماحول میں اجتماعی عبادت کرتےہیں، دعا ومناجات میں دوسروں کے ساتھ متحدہوتےہیں ، روحانی حساسیت کوبیدار کرتے ہیں۔ جب وہ ایک دوسرے کے گھروں میں ملنے جاتے ہیں اور خانوادوں ، دوستوں اور شناساؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں تو وہ روحانی مطالب کے حامل موضوعات پر با مقصد گفتگو شروع کرتےہیں ۔ دنیا کے بچوں کی آرزوؤں سے اور ان کی روحانی تربیت کی ضرورت سے آگاہ وہ اپنی کاوشوں کادائرہ وسیع کرتے ہیں تا کہ سماج میں روحانی جڑوں کو مضبوط تر ہوں۔ وہ نوجوانوں کی مدد کرتے ہیں تا کہ وہ اپنی زندگیوں کے اس نازک مرحلےسے گزر سکیں اور اس قدر قوت حاصل کر سکیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو تہذیب وتمدن کی ترقی پر لگا سکیں" اور اس کوشش میں ہیں کہ " وہ اپنے ایمان کا اظہار ایسی کوششوں کی ابھرتی ہوئی لہر کےذریعہ کر سکیں جو نوع بشرکی روحانی اور مادی دونوں پہلوؤں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں"۔

سندھ میں چند خواتین کلامِ الہی کے مطالعہ میں مصروف

Amnesty Pakistan

،
امرِ بہآئی ایک عالمگیر دین ہےاِس دین کے ماننے والےحضرت بہآءاللہ کو آج کے دور کے لئے مظہرِظہورِ الہی تسلیم کرتے ہیں۔اِس وقت دُنیا کے ۱۹۱ ممالک میں پچاس لاکھ سے زائد بہآئی موجود ہیں۔ دُنیا کے سب بہآئیوں کی طرح پاکستان کی سرزمین پر ہر صوبے کے بہآئی پُر مسرت اور حوصلہ افزہ "ماحول میں خدا کے تخلیقی کلام کے منّظم مطالعہ میں مصروف ہیں۔ جیسے جیسے وہ عمل، تدبراور مشورت کےعمل کے ذریعےاس طرح حاصل کی جانے والی بصیرتوں کوعملی جامہ پہنانےکی جدوجہدکرتے ہیں ویسے ویسے وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ خدمت سر انجام دینے کے سلسلے میں ان کی استعداد نئی سطحوں تک بلند ہوتی جا رہی ہے۔ ہر دل کی اس گہری آرزو کا، کہ وہ اپنے خالق کے ساتھ راز و نیاز کرے ،جواب دیتے ہوئے وہ متنوع ماحول میں اجتماعی عبادت کرتےہیں، دعا ومناجات میں دوسروں کے ساتھ متحدہوتےہیں ، روحانی حساسیت کوبیدار کرتے ہیں۔ جب وہ ایک دوسرے کے گھروں میں ملنے جاتے ہیں اور خانوادوں ، دوستوں اور شناساؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں تو وہ روحانی مطالب کے حامل موضوعات پر با مقصد گفتگو شروع کرتےہیں ۔ دنیا کے بچوں کی آرزوؤں سے اور ان کی روحانی تربیت کی ضرورت سے آگاہ وہ اپنی کاوشوں کادائرہ وسیع کرتے ہیں تا کہ سماج میں روحانی جڑوں کو مضبوط تر ہوں۔ وہ نوجوانوں کی مدد کرتے ہیں تا کہ وہ اپنی زندگیوں کے اس نازک مرحلےسے گزر سکیں اور اس قدر قوت حاصل کر سکیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو تہذیب وتمدن کی ترقی پر لگا سکیں" اور اس کوشش میں ہیں کہ " وہ اپنے ایمان کا اظہار ایسی کوششوں کی ابھرتی ہوئی لہر کےذریعہ کر سکیں جو نوع بشرکی روحانی اور مادی دونوں پہلوؤں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں"۔

سندھ میں چند خواتین کلامِ الہی کے مطالعہ میں مصروف

Arshad sulahri

ارشدسلہری
تبت میں بدھ مت کے پیروکاروں کی ایک منفرددنیا،پراسراریت ،غیبی طاقتوں کے کرشمے ،ایک ایسی دنیا کی جیتی جاگتی تصویرجواس جدید ترین دورمیں بھی ان دیکھی قوتوں پریقین رکھتی ہے اورایک ایسے مذہبی تصورات کی حامل ہے جواپنی انفرادیت کے لحاظ سے نئی نئی دنیا کے دروا کرتی ہے اورجدید دنیا کا ہرفرد ناقابل تحسین یقین کی صورتحال سے دوچارہوتا ہے منفرد لباس ،منفردشکل وصورت کے حامل یہ بدھا کے پیروکارسرمنڈوائے اوران سلے لبادے میں کوئی اورہی مخلوق نظرآتے ہیں اپنے روحانی پیشواورسیاسی راہنما کو’’دلائی لامہ‘‘کے نام سے پکارتے ہیں دلائی لامہ کیا ہے اس کی نامزدگی ،چنائو اورتلاش کا ایک پراسرارطریقہ کاراس کے حوالے سے غیبی طاقتوں کا کردار اورمقدس تصورات ،بدھا کے ان منفرد پیروکاروں اور ان کے روحانی پیشوا کے متعلق معلومات اور ان کی بنائی ہوئی خودساختہ دنیا کے بارے میں قارئین اکرام کی معلومات اوردلچسپی کیلئے فیچرخاصرخدمت ہے راقم نے تبت کے دلائی لاموں کے بارے میں قارئین اکرام کی معلومات اوردلچسپی کرانے کی اپنی سی کوشش کی ہے اگرکہیںکوئی غلطی یا ابہام رہ گیا ہوتوقارئین اکرام سے پیشگی معذرت کا خواستگارہوں۔
دلائی لامہ اول
پہلا دلائی لامہ تبت کے وسطی علاقے گرومی روپا میں391میں پیدا ہوا ان کا خاندانی نام پیماڈورجی تھا انہوں نے تبتی زبان 14سال کی عمرمیں لکھنا اورپڑھنا سیکھی مذہبی تعلیمات کے پرچاراورروحانی قوتوں کے آشکارہونے پر 1411میں ان کا مذہبی نام گیدن دھرپا مشہورہوگیا انہوں نے مذہبی تعلیمات اورروحانیت کی بڑھوتری کیلئے 1416میں ایک سکول قائم کیا اورباقاعدہ مذہبی تعلیم دنیاشروع کردی ،گیدن دھرپا کے اعلیٰ اصولوں اورتعلیمات کے باعث وہ جلد ہی ایک معزز اوراعلیٰ ہستی بن گئے اور447تک بدھ مت کی تعلیمات کا سلسلہ پورے تبت تک پھیل گیا ان کا بنایاگیا سکول بدھ ازم کی یونیورسٹی میں تبدیل ہوگیا انہوں نے بدھا کی تعلیمات اورفلسفہ پر 8 سے زائد کتابیں لکھی وہ بدھا کے عظیم استاد کے طورپرسامنے آتے انہوں نے 1474میں0سال کی عمرمیں وفات پائی۔
دلائی لامہ دوئم
دوسرا دلائی لامہ گیدن گستائو 1475میںتبت کے وسطی علاقے کے ایک قصبہ تاناگ سکیمی میں ایک کسان خاندان کے گھرپیدا ہوئے انہوں نے جب بولنے کی صلاحیت حاصل کی توانہوں نے اپنے والدین کوبتایا کہ اس کا نام پیماڈروجی ہے (پہلے دلائی لامہ کانامWinkاوروہ توسائی لانپوموسٹوروں میں رہنا چاہتے ہیںگیدن گستائو کے والد کواس وقت اپنے بچے پرمکمل یقین آیا جب انہوں نے خواب میں کچھ لوگوں کوسفید لباس زیب تن کئے دیکھا اورانہوں نے اس کے بیٹے کا نام گیدن دھرپا بتایا اورکہا کہ آپ کا بیٹا ماضی کی زندگی کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتا ہے ،باپ نے اپنے بیٹے کا نام سان گئی پھل رکھا ،گیدن گستائو نے ابتدائی پرائمری تعلیم اپنے والد سے حاصل کی جب ان کی عمر1 سال تھی ،448میں وہ دلائی لامہ کے منصب پرفائز ہوگیا انہوں نے 67سال کی عمرمیں 1542میں وفات پائی اوربدھا کی تعلیمات کے فروغ کیلئے بے شمارخدمات انجام دیں۔
دلائی لامہ سوئم
تیسرا دلائی لامہ سونام گستائو 1553میںتولنگ نام گیال میں ایک امیرخاندان کے گھرپیدا ہوا ان کے والدین کے ہاں کئی بچے پیدا ہوئے لیکن بدقسمتی سے فوت ہوگئے ،سونام کے پیدا ہونے پران کے والدین اس کوسفیدگائے کادودھ پلاتے تھے اوراس کا نام رانیوسائچوپلزنگ رکھا،546میں صرف 3سال کی عمرمیں انہیں روحانی پیشوا گیدن گستائو کے طورپرنامزد کردیاگیا اوران کے بال کٹوادئیے گئے اورانہیں 7سال کی عمرمیں سونام گستائو کے نام سے پکاراجانے لگا اور 22سال کی عمرمیں وہ مکمل طورپردلائی لامہ بن گئی574میں انہوں نے مذہبی سرگرمیاں شروع کردی اورمزیدروحانی ادارے قائم کئے ،منگوالیا کے بادشاہ نے انہیں یہاں آنے کی دعوت دی اوربرہما کا ذلی حب دیا،تیسرے دلائی لامہ نے 1588میں منگوالیا میں تعلیمات کے دوران وفات پائی جب ان کی عمرصرف 45سال تھی۔
دلائی لامہ چہارم
چوتھا دلائی لامہ 1589میں منگوالیا کے شہرچوکارمیں منگولین بادشاہ کی دوسری بیوی پھاکھن کے بطن سے پیدا ہوئے اورانہیں تیسرے دلائی لامہ یوتن گستائو کا نام دیا گیا ان کی پیدائش کے وقت ایک ایسا نشان ظاہرہوا تھا جو دلائی لامہ کی نشاندہی کرتا تھا ان کی ابتدائی تعلیم منگوالیا میں شروع ہوئی601میں انہیں 11سال کی عمرمیں دلائی لامہ کے منصب پرفائز کردیاگیا اوروہ 1614میں مکمل طورپرلوگوں کی روحانی قیادت کرنے لگی، چوتھے دلائی لامہ نے مختصرعمرپائی اوروہ 1617میں صرف 27سال کی عمرمیں وفات پاگئی۔
دلائی لامہ پنجم
پانچواں دلائی لامہ 1617میں تبت کے دارالحکومت کے ایک وسطی علاقے لہوکا چنگرمیں پیدا ہوئے ،چوتھے دلائی لامہ کے نگران اعلیٰ کوکچھ آثارپانچویں دلائی لامہ کے ایک لڑکے میں معلوم ہوئے جس کو دیکھنے کیلئے وہ لہوکا چنگرگیا یہ تمام کارروائی انتہائی خفیہ رکھی گئی مطلوبہ لڑکے کے بارے میں تمام تر چھان بین کے بعد اسے پانچواں دلائی لامہ قراردیدیاگیا اوراسے نیگونگ لوبسانگ کا نام دیاگیا ،نیگونگ گستائو کوبطوردلائی لامہ اس وقت نامزدکیاگیا جب تبت میں سیاسی ہلچل مچی ہوئی تھی نیگونگ 1645میں تبت کے سیاسی رہنما اورروحانی پیشوا کے طورپرسامنے آئے انہوں نے اعلیٰ حکام کا ایک اجلاس طلب کیاجس میں ملکی معاملات کواپنے ہاتھ میں لینے کا حکم صادرکیاپانچوایں دلائی لامہ ایک عظیم سکالرتھے انہوں نے مختلف موضوعات پرکئی کتابیں لکھی جس میں ان کی شعری مجموعہ جات بھی تھے انہوں نے 2تعلیمی ادارے بھی قائم کئے انہوں نے 65سال کی عمرمیں 1682 میںوفات پائی۔
دلائی لامہ ششم
چھٹا دلائی لامہ تسانگ یانگ گستائو پانچویں دلائی لامہ کی وفات کے دن اوراسی سال 1682 میں من تیوانگ شہرمیں پیدا ہوئے پوتلہ پیلس کے حکم سے پانچویں دلائی لامہ کی وفات کو5سال خفیہ رکھاگیا اوران 15 سالوں میں نئے آنیوالے دلائی لامہ کی تلاش کی جاتی رہی اوربالآخرمذہبی راہنمائوں نے ایک ایسے لڑکے کوتلاش کرلیا جس میں چھٹے دلائی لامہ کی صلاحیتیں اورآثارموجود تھے اس کومحل میں لایاگیا اوراس کومذہبی تعلیم دی گئی اور697کوپوتلہ محل کے مذہبی راہنمائوں نے نوجوان کودلائی لامہ کے منصب پرفائز کردیا جس کیلئے ایک بڑی تقریب کا انعقادکیاگیا جس میںاعلیٰ سیاسی مذہبی راہنمائوں سمیت حکومتی اہلکاروں نے بھی شرکت کی چھٹے دلائی لامہ میں اعلیٰ درجہ کی انتظامی صلاحیت تھی اورعظیم شاعراورلکھاری تھے انہوں نے کئی نظمیں لکھیں 1706کودلائی لامہ کوچین کے دورے کی دعوت دی گئی اوروہ راستے میں ہی وفات پاگئے چھٹے دلائی لامہ کی وفات کے بعد پوتلہ محل کے مذہبی سادھیونے ایک بارپھرساتویں دلائی لامہ کی تلاش شروع کردی چھٹے دلائی لامہ تسانگ یانگ نے اپنی نظمیوں میں اس بات کی طرف ارشاہ کیا تھا کہ ان کا دوسرا جنم ہوگا ایک گیت میں انہوں نے اپنے دوسرے جنم کے بارے میں مقام کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جولاتھنگ کھام کا علاقہ بنتا ہے ان کی وفات کے دوسال بعد ساتویں دلائی لامہ 1708میں سونام ڈارجیا میں پیدا ہوئی۔تبت کے عوام اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ تسانگ گستائو نے کلسانگ گستائو کے روپ میں دوبارہ جنم لیا ہے جس کا وہ ثبوت یہ تسانگ گستائو کی وہ نظم ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ کیلئے نہیں جائیںگے بلکہ دوبارہ آئیں گے ساتویں دلائی لامہ 1708میں سونام ڈورجیامیں پیدا ہوئے لوگ نئے پیدا ہونیوالے بچوں میں دلائی لامہ کی تلاش کررہے ہیں ان دنوں میں سیاسی صورتحال کوئی بہترنہیں اورتبت کے عوام جلدازجلد اپنے ساتویں دلائی لامہ کاوجود چاہتے تھے اوربالآخرلاتھنگ سے تبت کے عوام کی تلاش ختم ہوگئی اور 1770میں نیا دلائی لامہ نے کلسانگ گستائو کے نام سے پوٹلہ پیلس میں قدم رکھا اورانہوں نے 1951میں ایک نیاقانون بنایا اورایک روحانی کونسل کی تشکیل دی جیسے کہ ساتویں دلامہ کی حیثیت ایک سیاسی لیڈراورروحانی پیشوا کے طورپرہوگئی،ساتویں دلائی لامہ بڑے سکالرشاعراوررائٹرتھے جنہوں نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں انہوں نے انتہائی سادہ زندگی بسرکی اورتبت کے عوام کواپنا گرویدہ بنالیا ،ساتویں دلائی لامہ کاسانگ گستائو 1751میں وفات پاگئی۔
دلائی لامہ ہشتم
آٹھویں دلائی لامہ جمچھل گستائو 1758میں تبت کے شمالی مغربی علاقے میں پیداہوئے جمپھل صرف 5 سال کے تھے کہ اپنی ماں کے ہمراہ باغ میں چہل قدمی کررہے تھے کہ اچانک ایک ست رنگی آسمانی شعاع جمپھل کی ماں کونظرآتی جو اس کے بچے کوچھورہی تھے اس سست رنگی شعاع نے جمپھل کی حال کوسوچنے پرمجبورکردیاماں نے جمپھل کی طرف دیکھا تواس کے چہرے پرایک نورانی اوردلربا سی مسکان تھی ،جیسے وہ ایک مقدس ہستی ہوں ،ماں نے بھانپ لیا کہ یہ بچہ خاص ہے اوراس میںمقدس ہستی کے آثارہیں ماں کے منہ سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تبت کے مرکزی روحانی مرکز تک پہنچ گئے اورحکام نے اعلان کردیا کہ آٹھویں دلائی لامہ کا ظہورہوچکا ہے اوروہ بچہ ہی آٹھواں دلائی لامہ ہے تبت گورنمنٹ بچہ کومحل میں لے آئی اوراس کی آٹھویں دلائی لامہ کی حیثیت سے تربیت کاآغازکردیا 1762میںبچے نے پوٹلہ پیلس میں قدم رکھا اورسات سال کی عمرمیں بطوردلائی لامہ اپنے فرائض سنبھال لئے جس کیلئے ایک بڑی تقریب ہوئی 1777میں انہوں نے اپنی مکمل ذمہ داریاں نبھانا شروع کردیں وہ 804میں7سال کی عمرمیں وفات پاگئی۔
دلائی لامہ نہم
نائویں دلائی لامہ 1805میں کھیام کے ایک چھوٹے سے گائوں وان چوکھرمیں پیدا ہوئے انہیں آٹھویں دلائی لامہ کے بعد807میں دلائی لامہ کے طورپرنامزد کیاگیا 1810 میں انہیں پوٹلہ پیلس لایاگیا اوران کی تاج پوشی کی گئی اورانہیں لائونگ ٹوک گستائو کانام دیاگیا لیکن بدقسمتی سے وہ زیادہ دیرزندہ رہے اورنوعمری ہی میں وفات پاگئے ان کی عمروفات کے وقت صرف 19سال تھی۔
دلائی لامہ دہم
دسویں دلائی لامہ تسلترم گستائو 1816میں لاتھنگ کھیام میںپیدا ہوئے 1922میں انہیں دلائی لامہ نامزد کیاگیا اورساتھ ہی ان کی تاج پوشی بھی کی گئی826میں انہیں بدھ ازم کی تعلیم کیلئے خاص سکول میںداخل کرادیااس وقت ان کی عمرصرف 10سال تھی 1831میں انہوں نے پوٹلہ پیلس کی نئی تعمیرکاحکم دیا جب وہ صرف 19سال کے تھے اچانک ان کی صحت خراب ہوگئی اوروہ837میں انتقال کرگئی۔
گیارہویں دلائی لامہ
گیارہوں دلائی لامہ کھیلاوپ کھیام کے ایک قصہ قاتصرمیں 1838میں پیدا ہوئے 1841میں انہیں دلائی لامہ کے طورپرنامزدکیاگیا ان کے بال منڈوائے گئے اورانہیں کھیدروپ گستائو کانام دیاگیا 1842میں وہ 11سال کی عمرمیں پوٹلہ پیلس لائے گئے اوران کی تاج پوشی کی گئی اوران کی نوعمری متنازعہ بن گئی کیونکہ ان پرتبت کے عوام کے روحانی اورسیاسی راہنما ئی تھیں لیکن اچانک وہ پوٹلہ پیلس میں 1856میں فوت ہوگئی۔
بارہویں دلائی لامہ
بارہویں دلائی لامہ ترنلی گستائو 1856میں لہوکا میں پیدا ہوئے اورانہیں858میں صرف 2سال کی عمرمیں دلائی لامہ کے طورپرنامزد کردیا860میںسال کی عمرمیںکہ دوران ان کی تاج پوشی ہوئی اورانہیں بدھ ازم کی تعلیم اورروحانیت کے اسراراموز سیکھانا شروع کردیاگیا873میں انہوں نے دلائی لامہ کی تمام ترذمہ داریاں نبھانا شروع کردیں 1875میں وہ0سال کی عمرمیں پوتلہ پیلس میںوفات پاگئی۔
تیراہواں دلائی لامہ
تیرہویں دلائی لامہ نے تھپکوشمالی تبت کے علاقے میں 1876میںجنم لیا اوراسے 1878میں دلائی لامہ کیلئے نامزد کردیاگیا پیدائش کے وقت ایک خاص نشان ظاہرہوا تھا جس کی بنیادپراسے دلائی لامہ کے طورپرشناخت کیاگیا 1879میںانہیں پوٹلہ پیلس لایاگیا 8اگست 1895کوانہوں نے سیاسی طاقت حاصل کرلی اورانہوں نے دیگرممالک سے راہ ورسم بڑھانی شروع کردی اورتبت کی علیحدگی کیلئے برطانوی ہندوستان سے بات چیت کی تبت کی ترقی اورجدت کیلئے کوشاں ہوگئی913 میں انہوں نے پہلا ڈاک خانہ بنایااورتبتی نوجوانوں کوانجینئرنگ کی تعلیم کیلئے برطانیہ بھیجا 8جنوری913کوانہوں نے 5نکاتی بیان جاری کیاجس میں تبت کی آزادی کابھی گیا جوتبت کاقومی دن قراردیاگیا ہے انہوں نے پہلی بارتبت کی کرنسی بھی جاری کی 1914میں انہوں نے تبت آدمی کی استعدارکارمیں اضافہ کیلئے خصوصی تربیت کا آغازکیاگیا 1916ء میں ایک میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی انہوں نے 1973میں پولیس ہیڈکوارٹرکی بنیادی اورایک انگلش سکول کھولاگیا وہ 1933 میں8سال کی عمرمیںوفات پاگئی۔
K1-D:\EditorialPage-12-01
By: ....Aami