بہآئی عبادت گاہیں حمد و ثناء الہی کے لئے وقف ہیں۔ عبادت گاہیں مشرق الاذکار کی مرکزی عمارت ہوتی ہے، مشرق الاذکار عمارتوں کا ایک مجموعہ ہوگا۔ مستقبل میں جیسے جیسے اس میں مضمر ترقیات ظاہر ہوتی جائیں گی تو اس میں عبادت گاہ کے علاوہ متعدد ذیلی عمارات بھی بنیں گی جو معاشرتی، انسانی بہبود، تعلیمی اور سائنسی مقاصد کے لئے استعمال ہوں گی۔حضرت عبدالبہآء فرماتے ہیں کے "مشرق الاذکار دُنیا کی اہم ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔" اور حضرت شوقی آفندی بتاتے ہیں کہ یہ "بہآئی عبادت اور خدمت" کے ملاپ کی مجسم صورت کا نمونہ ہے۔ اس ادارہ کی مستقبل کی ترقیات کو تصوّر میں لاتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔ عبادت گاہ اور دوسری ذیلی عمارتیں "تکلیف میں مبتلا شخص کو راحت، مفلس کو امداد، مسافر کی پناہ گاہ، غمز دہ کو تسلی اور جاہل کو علم فراہم کریں گی۔"
house of worship text
،
امرِ بہآئی ایک عالمگیر دین ہےاِس دین کے ماننے والےحضرت بہآءاللہ کو آج کے دور کے لئے مظہرِظہورِ الہی تسلیم کرتے ہیں۔اِس وقت دُنیا کے ۱۹۱ ممالک میں پچاس لاکھ سے زائد بہآئی موجود ہیں۔ دُنیا کے سب بہآئیوں کی طرح پاکستان کی سرزمین پر ہر صوبے کے بہآئی پُر مسرت اور حوصلہ افزہ "ماحول میں خدا کے تخلیقی کلام کے منّظم مطالعہ میں مصروف ہیں۔ جیسے جیسے وہ عمل، تدبراور مشورت کےعمل کے ذریعےاس طرح حاصل کی جانے والی بصیرتوں کوعملی جامہ پہنانےکی جدوجہدکرتے ہیں ویسے ویسے وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ خدمت سر انجام دینے کے سلسلے میں ان کی استعداد نئی سطحوں تک بلند ہوتی جا رہی ہے۔ ہر دل کی اس گہری آرزو کا، کہ وہ اپنے خالق کے ساتھ راز و نیاز کرے ،جواب دیتے ہوئے وہ متنوع ماحول میں اجتماعی عبادت کرتےہیں، دعا ومناجات میں دوسروں کے ساتھ متحدہوتےہیں ، روحانی حساسیت کوبیدار کرتے ہیں۔ جب وہ ایک دوسرے کے گھروں میں ملنے جاتے ہیں اور خانوادوں ، دوستوں اور شناساؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں تو وہ روحانی مطالب کے حامل موضوعات پر با مقصد گفتگو شروع کرتےہیں ۔ دنیا کے بچوں کی آرزوؤں سے اور ان کی روحانی تربیت کی ضرورت سے آگاہ وہ اپنی کاوشوں کادائرہ وسیع کرتے ہیں تا کہ سماج میں روحانی جڑوں کو مضبوط تر ہوں۔ وہ نوجوانوں کی مدد کرتے ہیں تا کہ وہ اپنی زندگیوں کے اس نازک مرحلےسے گزر سکیں اور اس قدر قوت حاصل کر سکیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو تہذیب وتمدن کی ترقی پر لگا سکیں" اور اس کوشش میں ہیں کہ " وہ اپنے ایمان کا اظہار ایسی کوششوں کی ابھرتی ہوئی لہر کےذریعہ کر سکیں جو نوع بشرکی روحانی اور مادی دونوں پہلوؤں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں"۔
سندھ میں چند خواتین کلامِ الہی کے مطالعہ میں مصروف
،
امرِ بہآئی ایک عالمگیر دین ہےاِس دین کے ماننے والےحضرت بہآءاللہ کو آج کے دور کے لئے مظہرِظہورِ الہی تسلیم کرتے ہیں۔اِس وقت دُنیا کے ۱۹۱ ممالک میں پچاس لاکھ سے زائد بہآئی موجود ہیں۔ دُنیا کے سب بہآئیوں کی طرح پاکستان کی سرزمین پر ہر صوبے کے بہآئی پُر مسرت اور حوصلہ افزہ "ماحول میں خدا کے تخلیقی کلام کے منّظم مطالعہ میں مصروف ہیں۔ جیسے جیسے وہ عمل، تدبراور مشورت کےعمل کے ذریعےاس طرح حاصل کی جانے والی بصیرتوں کوعملی جامہ پہنانےکی جدوجہدکرتے ہیں ویسے ویسے وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ خدمت سر انجام دینے کے سلسلے میں ان کی استعداد نئی سطحوں تک بلند ہوتی جا رہی ہے۔ ہر دل کی اس گہری آرزو کا، کہ وہ اپنے خالق کے ساتھ راز و نیاز کرے ،جواب دیتے ہوئے وہ متنوع ماحول میں اجتماعی عبادت کرتےہیں، دعا ومناجات میں دوسروں کے ساتھ متحدہوتےہیں ، روحانی حساسیت کوبیدار کرتے ہیں۔ جب وہ ایک دوسرے کے گھروں میں ملنے جاتے ہیں اور خانوادوں ، دوستوں اور شناساؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں تو وہ روحانی مطالب کے حامل موضوعات پر با مقصد گفتگو شروع کرتےہیں ۔ دنیا کے بچوں کی آرزوؤں سے اور ان کی روحانی تربیت کی ضرورت سے آگاہ وہ اپنی کاوشوں کادائرہ وسیع کرتے ہیں تا کہ سماج میں روحانی جڑوں کو مضبوط تر ہوں۔ وہ نوجوانوں کی مدد کرتے ہیں تا کہ وہ اپنی زندگیوں کے اس نازک مرحلےسے گزر سکیں اور اس قدر قوت حاصل کر سکیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو تہذیب وتمدن کی ترقی پر لگا سکیں" اور اس کوشش میں ہیں کہ " وہ اپنے ایمان کا اظہار ایسی کوششوں کی ابھرتی ہوئی لہر کےذریعہ کر سکیں جو نوع بشرکی روحانی اور مادی دونوں پہلوؤں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں"۔
سندھ میں چند خواتین کلامِ الہی کے مطالعہ میں مصروف